نئی دہلی20؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ہفتہ کے روز دی کشمیر فائلز کو تاریخ کو مسخ کرنے، غصے کو بھڑکانے اور تشدد کی حوصلہ افزائی کا پروپیگنڈہ قرار دیاہے۔کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ وویک اگنی ہوتری کی فلم، جو وادی سے کشمیری پنڈتوں کے اخراج پر مبنی ہے، کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب ناقدین نے فلم ساز پرالزام لگایاہے کہ کمیونٹی اور بائیں بازو کے نظریات کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے۔سابق وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ٹویٹرپرلکھاہے کہ کچھ فلمیں تبدیلی کی تحریک دیتی ہیں۔ کشمیر فائلز نفرت کو ہوا دیتی ہیں۔ سچائی، انصاف، بحالی، مفاہمت اور امن کی طرف لے جا سکتی ہے۔ لیکن یہ فلم حقائق کی بات نہیں کرتی ہے۔
تاریخ کو مسخ کرتی ہے۔غصہ بھڑکاتی ہے اور تشدد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دی کشمیر فائلز پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ یہ فلم سچائی سے بہت دور ہے کیونکہ فلم سازوں نے مسلمانوں اور سکھوں کی قربانیوں کو نظر انداز کیا، جو وادی میں مصائب کے شکار ہیں۔کولگام ضلع کے دمل ہانجی پورہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ ان کے والد، پارٹی سربراہ فاروق عبداللہ، کشمیری پنڈتوں کے اخراج کے وقت جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نہیں تھے۔ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیاہے کہ جگموہن اس وقت کشمیر کے گورنر تھے۔ جب کہ مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت تھی جسے باہر سے بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔